25 ستمبر 2026 - 14:49
عراقچی کی برطانوی وزیر خارجہ سے ملاقات، تین یورپی ممالک کو جواب دینا ہوگا

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ سے ملاقات میں کہا ہے کہ تین یورپی ممالک کو امریکا اور اسرائیل کی فوجی جارحیت کے خلاف واضح مؤقف اختیار نہ کرنے پر جواب دینا ہوگا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر نیویارک میں برطانوی وزیر خارجہ سے ملاقات اور گفتگو کی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے ایران اور برطانیہ کے دوطرفہ تعلقات سمیت علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

عراقچی نے خطے اور آبنائے ہرمز میں موجود عدم تحفظ کو امریکا اور اسرائیل کی فوجی جارحیت کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ بعض یورپی ممالک کی حمایت اور تعاون سے ہونے والی اس کارروائی کے نتیجے میں ایران، خطے اور دنیا کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن و استحکام کا قیام فلسطینی سرزمین پر قبضے کے خاتمے اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق، خصوصاً حقِ خودارادیت، کی بحالی سے مشروط ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ اور بعض دیگر یورپی ممالک کو خطے میں قابض نظام کے قیام اور اس کے تسلسل میں اپنے کردار پر جوابدہ ہونا چاہیے۔

عراقچی نے ایران اور خطے کے حوالے سے بعض یورپی حکومتوں کے ’’تباہ کن اور غیر ذمہ دارانہ‘‘ رویوں میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور انسانی حقوق کے تصورات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

انہوں نے برطانیہ اور بعض دیگر یورپی ممالک کی جانب سے اسرائیل کو مسلسل فوجی اور سیاسی حمایت فراہم کیے جانے کو فلسطینی عوام اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں میں اضافے کا ایک اہم سبب قرار دیا۔ عراقچی نے کہا کہ متعلقہ بین الاقوامی معاہدوں کے تحت برطانیہ سمیت دیگر ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسرائیلی حکام کے خلاف جنگی جرائم اور نسل کشی کے الزامات پر قانونی کارروائی میں کردار ادا کریں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے ایران کے پُرامن جوہری پروگرام سے متعلق معاملات کے حل کے لیے سفارت کاری کے استعمال پر بھی زور دیا اور کہا کہ اسنیپ بیک کے معاملے میں امریکا کے ’’غیر قانونی اقدامات‘‘ کی پیروی کرنے اور ایران کی پُرامن جوہری تنصیبات پر امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے خلاف واضح مؤقف اختیار نہ کرنے پر تین یورپی ممالک کو جوابدہ ہونا چاہیے۔

ملاقات کے دوران ایران اور برطانیہ کے دوطرفہ تعلقات، سفارتی امور اور قونصلر معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha